یہ ڈاؤن لوڈ Vimeo سے ہے۔ ویڈیو کے نیچے 'ڈاؤن لوڈ' پر کلک کریں، پھر اپنی مطلوبہ ریزولوشن منتخب کریں۔
ایک شخص، جو پیدائشی طور پر لنگڑا تھا، جب اسے خبر ملی کہ یسوع نامی معجزے دکھانے والا اُس کے گاؤں میں تعلیم دے رہا ہے، تو اُس نے اپنے دوستوں کو بلایا تاکہ وہ یسوع سے ملنے میں اُس کی
مدد کریں۔ لوگوں کے بڑے ہجوم سے ہمت ہارے بغیر، دوستوں نے اُس شخص کو چھت کے راستے نیچے اتارا تاکہ وہ یسوع کے قریب ہو سکے۔ یسوع نے اس لنگڑے شخص کے ایمان کو پہچان لیا اور اُس کے جسم اور روح دونوں کو شفا بخشی۔
اس کہانی کی زیادہ تر توجہ یسوع کی اس معجزانہ قدرت پر ہے جس سے اس نے مفلوج آدمی کو شفا دی، اور اس اختیار کے سرچشمے پر بھی جس کے ذریعے وہ گناہوں کو معاف کرتا ہے۔ لیکن کہانی کا
ایک اور پہلو یہ ہے کہ اس معجزے نے یسوع کے وہاں سے چلے جانے کے کافی عرصے بعد بھی اس مفلوج آدمی کی زندگی کو کیسے بدلا۔ اس کے ساتھ کیا ہوا، اور جب وہ چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا تو اس نے کس قسم کا کام شروع کیا؟
ایک بستر بنانے والا اس مفلوج آدمی کی کہانی سناتا ہے جسے یسوع مسیح نے شفا دی، جب اسے چھت کے ذریعے ہجوم کے درمیان نیچے اتارا گیا۔ وہ اپنے گاہکوں کو بتاتا ہے کہ وہ بیماروں، لنگڑوں اور تھکے ہارے لوگوں کے لیے بستر کیوں بناتا ہے۔
متی 9: 1-8 اور مرقس 2: 1-12 میں بیان کردہ متوازی کہانیاں بھی پڑھیں۔
یہ کہنا آسان ہے کہ ’’تمہارے گناہ معاف کیے گئے‘‘، لیکن اسے آنکھوں سے دیکھا نہیں جا سکتا۔ اس کے برعکس یہ کہنا کہ ’’اٹھو، اپنی چارپائی اٹھاؤ اور چلنے لگو‘‘ یسوع مسیح کی قدرت کو زیادہ واضح
طور پر ظاہر کرتا ہے۔ وہ جانتا اور سمجھتا تھا کہ شک کرنے والے دونوں چیزیں دیکھ کر فائدہ اٹھائیں گے۔
جب شریعت کے علما نے لنگڑے آدمی کو شفا دینے پر یسوع سے سوال کیا، تو دراصل وہ یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ یسوع یہ ثابت کرے کہ اسے گناہوں کو معاف کرنے کا اختیار اور قدرت بھی حاصل ہے۔
جب ان آدمیوں نے چھت میں سوراخ کیا تاکہ کسی کو اوپر سے اندر اتار سکیں، تو اس بھرے ہوئے کمرے میں موجود لوگوں نے کیا سوچا ہوگا؟
آپ کے خیال میں شفا پانے کے بعد اس مفلوج آدمی نے یسوع سے کیا کہا ہوگا؟
یسوع نے گناہوں کی معافی کا ذکر کیوں کیا؟
آپ کے خیال میں اس شفا کو دیکھنے کے بعد لوگوں نے یسوع کے بارے میں کیا کہا ہوگا؟